Thursday, June 25, 2015

رمضان اور میڈیا

بہت دنوں سے ٹی وی دیکھنے کی فرصت سے محرومی کے بعد آج خیال آیا کہ دیکھا جائے کہ رمضان کے کیا رنگ میڈیا پر سجائے گئے ھیں. دیکھ کر احساس ہوا کہ پچھلے سال کی نسبت کافی ترقی ہوگئی ہے. عامر لیاقت حسین صاحب البتہ 'جیو' پر ھی جلوہ افروز ھیں اور بلعموم رمضان کے پروگراموں میں نمایاں اضافع ہوا ہے. مزید پر تکلف اور پر اہتمام پروگرام سجائے گئے ہیں. محض دکھاوا ہی  دکھاوا    دکھئی دیتے ہیں.

رمضان کی آمد کیساتھ میڈیا پر ایک عظیم تغیر رونما ہوتا نظر آتا ہے. بلکہ یہ تغیر رمضان کی آمد سے مہینہ دو مہینہ قبل شروع ہوجاتا ہے. خوتین ڈوپٹوں میں ملبوس نظر آتے لگتی ھیں، کیونکہ آجکل دوپٹے کا فیشن نہیں لحذہ یہ کافی واضح تبدیلی معلوم ھوتی ہے. سروں پر بحرحال دوپٹے اور چہروں پر منوں میک آپ ھوتا ہے. آپ بیشک دوپٹہ نہ لیجئیے یہ آپ کا ذاتی مسلہ ہےمگر ایسا حلیہ نہ بنائیں جس کی وجی سے لوگ  آپ کے نمائشی پن کی تاب نہ لا کر مذہب سے ہی  بد دل ہوجائیں.

رمضان کا چاند نظر آتے ہی  یکا یک ہر مرد ایک عالم اور معلم دیکھائی دیتا ہے. اور مذہب پر سیر حاصل گفتگو کے قابل ہوتا ہے.اس تحریر کا مقصد کسی کے ظاھری اعمال پر تبصرہ یا رائے دینا نہیں. ان پروگوموں سے حاصل کرنے والے بہت کچھ حاصل بھی کر سکتے ھیں. ممکن ہےبہت سے لوگ صاف نیت سے کام کرتے ھوں. کچھ پروگرام معیاری بھی ھونگے. مقصد صرف اس تضاد کی نشاندہی کرنا ہےجو عام مہینوں اور رمضان میں دکھائی دیتا ہے، جس سے مذہب کے خریدار کچھ کم ھو جائیں.جس چینل کو دیکھئے 'رمضان ٹرانسمشن' کی صورت میں بظاھر ایک روحانی طوفان برپا نظر آتا ہے. افسوس ہوتا ہےکہ مذہب بکتا ہے، مزید افسوس کہ خریدار بھی موجود ہیں. اس ٹرانسمشن کی آڑ میں عالیشان سیٹ بنوائے جاتے ھیں میزبان بہترین ڈیزائنرز کے کپڑوں میں ملبوس ھوتے ھیں. اور معذرت کے ساتھ خواتیں میزبان شور بھی بہت کرتی ہیں اور چیخ چیخ کر انعامات بانٹتی ھیں. واللہ اعلم روزے کی حالت میں یہ سب کچھ کیونکر ممکن ہے؟ اگر یہی توجہ اور طاقت کسی مثبت کام میں صرف کی جائے تو بہت بہتر ہو . اسی طرح پورا سال بالعموم اور رمضان میں بالخصوص سوشل میڈیا پر بے مقصد گفتگو سے اجتناب کرنا چاھئیے.

رمضان زیادہ تر انفرادی عبادات کا مہینہ ہے، جس کا مقصد ھے کہ دنیا سے تعلق توڑ کر اللہ کی طرف رجوع کیا جائے نہ کہ ستائیسویں شب کو کسی با برکت گیم شو سے گاڑی جیتی جائے. اگر رمضان سے فائدہ لینا ھے تو 'رمضان ٹرانسمشن' کو بند کر کے کے محض خبروں والے ڈرامے پر اکتفا کریں.


No comments:

Post a Comment