اسلام, پاکستان اور دائرہِ اسلام یہ تینوں بظاہر ملتی مگر متفرق اشیاء ہیں. پہلی دو کو سمجھنا آسان ہے مگر آخری میں کچھ پیچیدگیاں ضرور ہیں. اس دائرے کا تذکرہ تو ہم سب نے سن ہی رکھا ہے , مگر یہ ہے کیا؟ اسکا سوراغ لگانا ایک کٹھن عمل ہے. میں نے بھی ایک کوشش کر دیکھی.
دائرہ ایک ہندسی شکل ہے جسکا کوئی کونا نہیں. ہمارے
اسلاف نے اسلام کیلیے اس ہندسی شکل کا انتخاب کیا اور یہی آج میری سوچ کا محور ہے.
بہت سوچ کہ بعد میں نے اپنے اسلاف کو داد دی کہ اگر انہوں نے اسلام کیلیے کسی اور شکل جیسے چوکور کا انتخاب کیا ہوتا تو پھر اختلافات کا اندیشہ ہوتا کہ چوکور اسلام سے خروج کونے سے ہوگا؟ اگر نہیں تو کونے سے کتنے فاصلہ پر شرعی اعتبار سے ؟ کیا کونا مقبول ہے یا کونے سے شرعی فاصلہ رکھا جائے؟ نیز ان تمام پیچیدگوں سے ہمین اس دائرے نے پچا لیا. شاید اسی وجہ سے دائرہ اسلام سے کوئی بھی کبھی بھی خارج ہو سکتا ہے.بنیادی طور پر باہر نکالنے پر توجہ ذیادہ اور دائرے میں لانے پر توجہ نہ ہونے کے بربر ہے. اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ دائرے کے اندر والے شریعت کیلیے بڑا خطرہ ہیں.
انگریز پر الزام ہے کہ وہ بہت سے علمی اثاثے اور نودرات بر صغیر سے لے گئے, مگر وہ یہ دائرہ لے جانا بھول گئے ورنہ آج عیسائیت کا بھی دائرہ ہوتا. صد افسوس کہ انگریز دائرہ میں داخل ہونے کے لطف اور کسی کو دائرے سے خارج کرنے کی لذت سے محروم ہیں. یہود البتہ ہم سے اور ہمارے معاشرے سے دور رہے ہیں چناچہ ان کا اس دائرے سے محروم رہنا فطری امر ہے.
دائرہِ اسلام پر تحقیق كی تو معلوم ہوا کہ یہ بہت سے ہیں ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق اپنا دائرہ بنا سکتا ہے, لیکن ایک قدر انکی مشترک ہے کہ یہ سب سکڑتے چلے جا رہے ہیں. انکی تعداد کا ذیادہ ہونا بھی شاید کوئی انتظامی حکمت عملی ہے. اس دائرے میں شامل ہونے اور پھر اس میں جمے رہنے کیلیے ہر مکتبہءِ فکر سرگرم ہے.حالات پر غور و خوض سے معلوم ہوا کہ اس دائرے میں رہنے کیلیے عقائد, الفاظ اور بیانات بے حد اہم ہیں اعمال البتہ کچھ خاص ضروری نہیں. اس دائرے سے باہر جان و مال کے تحفظ کا کوئی ذمّه دار نہیں.
اصل مشکل تب درپیش ہوئی جب اس دائرے کے اندر جھانکا تو یہاں اغراض, منافقت اور خود غرضی تو تھی مگر اسلام نہ مل سکا لحٰذہ اگر آپ کو کسی وجہ سے اس دائرے سے خارج کیا گیا ہے تو یقین جانئیے یہ دائرہ اور آپ; دونوں بے قصور
ہیں .
غالب امکان ہے کہ خدا بھی اس دائرے سے نالاں ہو. و اللہُ اعۡلَم
اور تو اور یہ دائرہ خود بھی اپنی کھینچ تان سے پریشان ہی ہوگا.

