Thursday, June 21, 2018

اسلام, پاکستان اور دائرہِ اسلام


اسلام, پاکستان اور دائرہِ اسلام یہ تینوں بظاہر ملتی مگر متفرق اشیاء ہیں. پہلی دو کو سمجھنا آسان  ہے مگر آخری میں کچھ پیچیدگیاں ضرور ہیں. اس دائرے کا تذکرہ تو ہم سب نے سن ہی رکھا ہے , مگر یہ ہے کیا؟ اسکا سوراغ لگانا ایک کٹھن عمل ہے. میں نے بھی ایک کوشش کر دیکھی. 

دائرہ ایک ہندسی شکل ہے جسکا کوئی کونا نہیں. ہمارے
 اسلاف نے اسلام کیلیے اس ہندسی شکل کا انتخاب کیا اور یہی آج میری سوچ کا محور ہے.

بہت سوچ کہ بعد میں نے اپنے اسلاف کو داد دی کہ اگر انہوں نے اسلام کیلیے کسی اور شکل جیسے چوکور کا انتخاب کیا ہوتا تو پھر اختلافات کا اندیشہ ہوتا کہ چوکور اسلام سے خروج کونے سے ہوگا؟ اگر نہیں تو کونے سے کتنے فاصلہ پر شرعی اعتبار سے ؟ کیا کونا مقبول ہے یا کونے سے شرعی فاصلہ رکھا جائے؟ نیز ان تمام پیچیدگوں سے ہمین اس دائرے نے پچا لیا. شاید اسی وجہ سے دائرہ اسلام سے کوئی بھی کبھی بھی خارج ہو سکتا ہے.بنیادی طور پر باہر نکالنے پر توجہ ذیادہ اور دائرے میں لانے پر توجہ نہ ہونے کے بربر ہے. اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ دائرے کے اندر والے شریعت کیلیے بڑا خطرہ ہیں. 

انگریز پر الزام ہے کہ وہ بہت سے علمی اثاثے اور نودرات بر صغیر سے لے گئے, مگر وہ یہ دائرہ لے جانا بھول گئے ورنہ آج عیسائیت کا بھی دائرہ ہوتا. صد افسوس کہ انگریز دائرہ میں داخل ہونے کے لطف اور کسی کو دائرے سے خارج کرنے کی لذت سے محروم ہیں. یہود البتہ ہم سے اور ہمارے معاشرے سے دور رہے ہیں چناچہ ان کا اس دائرے سے محروم رہنا فطری امر ہے. 

 دائرہِ اسلام پر تحقیق كی تو معلوم ہوا کہ یہ بہت سے ہیں ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق اپنا دائرہ بنا سکتا ہے, لیکن ایک قدر انکی مشترک ہے کہ یہ سب سکڑتے چلے جا رہے ہیں. انکی تعداد کا ذیادہ ہونا بھی شاید کوئی انتظامی حکمت عملی ہے. اس دائرے میں شامل ہونے اور پھر اس میں جمے رہنے کیلیے ہر مکتبہءِ فکر سرگرم ہے.حالات پر غور و خوض سے معلوم ہوا کہ اس دائرے میں رہنے کیلیے عقائد, الفاظ اور بیانات بے حد اہم ہیں اعمال البتہ کچھ خاص ضروری نہیں. اس دائرے سے باہر جان و مال کے تحفظ کا کوئی ذمّه دار نہیں. 



اصل مشکل تب درپیش ہوئی جب اس دائرے کے اندر جھانکا تو یہاں اغراض, منافقت  اور خود غرضی تو تھی مگر اسلام نہ مل سکا لحٰذہ اگر آپ کو کسی وجہ سے اس دائرے سے خارج کیا گیا ہے تو یقین جانئیے یہ دائرہ اور آپ; دونوں بے قصور 
ہیں . 


 غالب امکان ہے کہ خدا بھی اس دائرے سے نالاں ہو. و اللہُ اعۡلَم
اور تو اور یہ دائرہ خود بھی اپنی کھینچ تان سے پریشان ہی ہوگا.

Tuesday, May 29, 2018

Knowing our limits


Eyes cannot reach Him but He reaches the eyes. And He is the Incomprehensible, the All-Aware."

 آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ باخبر رہنے والا ہے۔

This verse seems to deepen our limited understanding of the unlimited Noor, His Noor. This verse uses the word الابصار which also means 'understanding' and 'vision' which means it is not in our capability that either with our eyes or our vision we comprehend the Supreme Being. It is only the limited understanding that He has himself given us that we may be able to understand. Though we can identify His existence but we can never totally comprehend.   

[Image Source]
Quran Says He is the light of the heavens and earth. His prophets A.S. are like a prism who make manifest all shades of His Noor for the people, and the willing hearts in turn can color themselves. 

We know Allah through all the attributes that He has taught us. I once asked a bunch of kids that after all why does Allah have so many names? I got a few stares in response initially though, but they could also guess that It was through them that we know Him. 


If we ponder a little further we realize that even His attributes that we know are those which we can understand in our context, i.e. we are the ones who sin so we know Him as the one who forgives. Similarly we are the ones who fall ill so we know Him as the one who gives shifa. There could be countless other attributes that we cannot understand in our context. Even for the attributes we know are not fully lucid for us. Like we know Him as the Creator, but how many things of which sort has He created? , can we comprehend? No! We only know the things He has taught us. So that being a perfect example of Eyes not being able to reach Him but He reaches the eyes. In fact that is he reason His quest becomes all the more interesting. It is الغیب (hidden) in nature that derives all the research and our quest to know more.

Same is the case with our efforts to attain his nearness, we can only have intention & efforts at our end the rest depends on Him.

And so the verse ends beautifully saying that He is incomprehensible for us but He knows everything! 


Looking forward to comments, corrections and suggestions.