Friday, November 6, 2015

Mind your Language!

Everyone who visits Thailand must have felt the language barrier. The Arabs, Europeans and Asians seem to be struggling to get their message through. With their literacy rate well above 90 percent there are few who can communicate in English the lingua Franca.
There is a flip side to this whole scenario. It is amazing how these people respect and take pride in their language. If you say 'hello' or 'hi' at shops or at a hospital or on the road side even you are never responded in English the response is always in their native language.
All products have got Thai language on them, if you buy a local SIM the entire message from your service provider is in Thai language even for tourist SIMs. The cash receipts of point of sale systems are again in their native language. Their channels of news and entertainment are all based on their native language, cartoons even are aired in Thai language. Though being a tourist attraction one can see a lot of foreigners around still they prefer their native language over English.

One wonders how things are back home in Pakistan. We often find people telling the young ones to use Arabic or Urdu counterparts for the words 'thank you' and 'hello'. But the common trend goes against it, here in Thailand I have spent more than a month and never heard a hello or Thank you from anyone in English they use their own language. As a result the tourists pretty quickly learn  basic Thai greeting pronounced something like 'swadika'.
Perhaps they have not been ruled by the British! Perhaps we need some time to gain mental freedom!

وطنِ عزیز کی یاد تھائیلینڈ میں

ملک سے باہر جا کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے وطن کی کیا اہمیت ہے. تھائیلینڈ آتے ہی کچھ بے چینی محسوس ہوئی کہ خدا جانے یہاں بجلی کب کب جاتی ہوگی. پھر یاد آیا کہ اب میں 'بجلی جانے' کے دھچکے اور  'بجلی آنے' کی خوشی سے محروم ہو چکی ہوں. پھر بھی ایک روز جب بارش کی وجہ سے تکنیکی خرابی سے اندھیرا ھوا تو دل کو بہت تسلی ہوئی کہ انکو بھی بجلی کی عدم موجودگی سے پالا پڑا تو سہی. اور اس پر مزید یہ کہ انکے پاس جنریٹرز کا بھی انتظام نہیں! ہمارا ملک اس سلسہ میں کہیں ذیادہ ترقی یافتہ ہے. خدا گواہ ہے کہ کبھی فالتو بتی نہیں بجھائی کیونکہ ہمارے ملک کا دستور ہے کہ بجلی قوم کیلیے بچائی جاتی ہے اور تھائیلینڈ میں میری قوم کہاں؟

 اگرچہ یہاں یوٹیوب پر پابندی نہیں ہے مگر پھر بھی اسلام کو کوئی  بڑا خطرہ محسوس نہیں ہوتا ! البتہ پاکستان بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مرد حضرات کو سیلاب حسن دیکھ کر ایمان جانے کا خطرہ ضرور محسوس ہوتا ہے کیو نکہ یہاں خواتین مردوں کی نسبت ذیادہ مختصر لباس میں نظر آتی ہیں. کسی کام سے پاکستان ایمبیسی جانا پڑا تو وہاں ٹوٹی ہوئی کرسیاں دیکھ کر گھر کا سا احساس ہوا. دیوار پر نواز شریف صاحب اور صدر ممنون حسین صاحب کی تصویر دیکھ کر وہ خوشی ہوئی جو اپنے ملک میں کبھی نہیں ہوتی. اور خیال آیا کہ نا حق وہاں 'گو نواز گو ' کے نعرے لگتے ہیں ، جبکہ نواز شریف صاحب اردو بول بھی لیتے ہیں اور سمجھ بھی لیتے ہیں. یہاں تھائیلینڈ میں اتنے عالم فاضل لوگ کہاں.

 یہاں لوگوں کا اچھا اخلاق دیکھ کر انسان سوچتا ہے کہ کیا یہاں کے لوگوں کیساتھ کوئی مسئلہ ہے یا ہمارے پاکستان میں کوئی اخلا قی ترقی ہو چکی ہے؟ بحر حال یہاں لوگ بہت با اخلاق اور خوش مزاج نظر آتے ہیں. یہاں تک کہ سڑک پر سٹالز پر کام کرنے والی بوڑھی عورتیں بھی ہنستی مسکراتی نظر آتی ہیں.وطن عزیز کے دستور کےبرعکس سڑک پر پیدل چلنے والوں کا بہت لہاذ رکھا جاتا ہے.

 ایک روز یہاں ایک ہسپتال کے کارکنان کا احتجاج دیکھنے کا موقع ملا جس کا مقصد تنخواہیں بڑھوانا تھا، اس احتجاج میں پاکستانی احتجاج والی کوئی بات نہیں تھی. نہ تو بلند نعرے لگائے گئے نہ سڑک بلاک ہوئی اور نہ کسی قسم کا شور شرابہ سنائی دیا. نہ کوئی آنسو گیس نہ کوئی شیلنگ. پہلے سے دیے گئے وقت کے مطابق کارکنان وہاں اکٹھے ہوئے ، اپنی حاضری لگا کر دئے گئے وقت کے مطابق واپس چلے گئے. چونکہ یہ مظاہرہ ہماری بلڈنگ کے سامنے تھا اس لیے اسکے اوقات ایک ہفتہ پہلے سے ہماری بلڈنگ کی ہر منزل پر لگا دیے گئے تھے. میرے مشاہدے کے مطابق مردوں کو البتہ  بلا تفریق رنگ و نسل کے گھورنے کی عادت ہوا کرتی ہے غالبا. کمی بیشی ضرور ہو سکتی ہے. پاکستان میں یہ رجحان بہرحال ذیادہ ہے. یہاں پاکستان کے  ٹی وی چینلز نشر نہیں ہوتے جسکی وجہ سے زندگی میں بریکنگ نیوز کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے. 

ہمارے ملک کے تمام تر مسائل  اور خطر ناک صورت حال کے با وجود وہ جگہ جسکو ہم گھر کہہ سکتے ہیں اور وہ جگہ جو ہمیں اپنا کہتی ہے وہ پاکستان ہی ہے. دنیا میں اور کوئی جگہ نہیں جو پاکستان جیسی ہو.